گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا
نا قصاں را پیر
کامل کاملاں رہنما
وہاں سے روانہ ہوکر پٹیالہ ہوتے ہوئے آپ دہلی تشریف لائے۔ پہنچ کر
راجہ کھانڈے راؤ کے محل کے سامنے تھوڑا فاصلے پر رشد و ہدایت کا کام
شروع کردیا۔ آپ کا اندازِ تبلیغ اتنا دل نشیں اور ذات اتنی پُر کشش
تھی کہ آپ کے پاس آنے والوں میں اکثر لوگ آپ کے دستِ حق پر ایمان لے
آتے۔ دھیرے دھیرے مسلمانوں کی تعداد بڑھنی شروع ہوگئی۔ اور تھوڑے ہی
عرصہ میں دہلی میں اسلام کے فروغ سے تہلکہ مچ گیا۔ معززین شہر کا ایک
گروہ حاکم شہر کے پاس پہنچا اور عرض کی۔ ان مسلمان کی آمد کی وجہ سے
ہمارے دیوتا ناراض ہوگئے ہیں۔ اگر فوراً انہیں یہاں سے نہ نکالا گیا
تو ڈر ہے کہ دیوتاؤں کا قہر سلطنت کی تباہی کا سبب نہ بن جائے۔ اور
کھانڈے راؤ نے حکم جاری کیا کہ ان فقیروں کو دہلی سے فوراً نکال دیا
جائے لیکن اس کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی کیونکہ حکومت کے لوگ جب
عملی کاروائی کرنے آپ کے پاس آتے تو آپ کے حسن اخلاق، اعلٰی کردار
اور حق یانی سے متاثر ہوکر قبولِ اسلام کر لیتے۔ کھانڈے راؤ نے ایک
بدمعاش کو لالچ دے کر تیار کیا کہ وہ معتقد بن کو جائے اور قتل کردے۔
چنانچہ وہ شخص عقیدت مند بن کر حاضر ہوا۔ آپ پر اس کی آمد کا حال
منکشف ہوگیا اور آپ نے فرمایا اس عقیدت مندی سے کیا فائدہ جس کام کے
لئے آیا ہے وہ کیوں نہیں کرتا۔ یہ سن کر اس کے بدن میں لرزہ پڑ گیا
اور خنجر زمین پر آ گرا اور وہ شخص بھی آپ کے دامن سے وابستہ ہو کر
مسلمان ہوگیا۔ جب حضرت خواجہ نے دیکھا کہ دہلی میں کافی تعداد میں
مسلمان ہو چکے ہیں تو آپ نے خلیفہء اکبر حضرت قطب الدین بختیار کاکی
کو رشد و ہدایت کیلئے وہاں چھوڑا اور خود مع اپنے چالیس جانثاروں کے
اجمیر کیلئے روانہ ہوگئے۔ اس سفر میں بھی اجمیر پہنچتے پہنچتے سیکڑوں
آدمی آپ کے دستِ حق پرست پر ایمان لائے۔
اجمیر پہنچ کر ایک درخت کے نیچے آپ نے قیام فرمایا۔ درخت سایہ دار
تھا۔ ابھی آپ بیٹھے ہی تھے کہ چند ساربانوں نے آکر منع کیا اور کہا۔
یہاں راجہ کے اونٹ بیٹھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، بہت سی جگہیں ہیں اونٹ
کہیں بھی بیٹھائے جا سکتے ہیں لیکن ساربان تشدد پر اُتر آئے۔ حضرت
خواجہ یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے لو بابا ہم یہاں سے اٹھ جاتے ہیں،
تمہارے اونٹ ہی بیٹھیں رہیں۔ وہاں سے اٹھ کر آپ اپنے مُریدوں کے ساتھ
اناساگر کے قریب پہاڑی پر ٹھہر گئے دوسرے دن ساربانوں نے لاکھ کوشش
کی مگر اونٹ کھڑے نہ ہو سکے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے زمین نے
انھیں پکڑ لیا ہو۔ ساربان سخت پریشان ہوئے۔ کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی
تو مجبوراً راجہ کے دربار میں حاضر ہوئے۔ جب ان کی زبانی اس نے یہ
عجیب و غریب واقعہ سنا تو حیرت میں پڑ گیا۔ ناچار اس نے حکم دیا۔ جاؤ
اس فقیر سے معافی مانگو جس کی بددعاء کا یہ نتیجہ ہے۔ ساربانوں نے
جاکر عاجزی و انکساری سے معافی مانگی۔ آپ نے کمال مہربانی سے فرمایا
جاؤ خدا کی مہربانی سے تمہارے اونٹ کھڑے ہو جائیں گے۔ ساربانوں نے
واپس آکر دیکھا تو سب کے سب اونٹ کھڑے تھے۔ ان کی خوشی اور تعجب کی
کوئی انتہا نہ رہی۔ اس واقعے سے آپ اندازہ لگائیں کہ اولیاء کرام
کتنے با اختیار ہوتے ہیں اور ولی کو جب اتنا اختیار ہے تو پھر نبی کو
کتنا اختیار ہوگا۔ لٰہذا جو کہے کہ جن کا نام محمد و علی ہے وہ کسی
چیز کے مالک و مختار نہیں، وہ گمراہ ہے۔
دہلی میں تشریف آوری
حضرت خواجہ غریب نواز اجمیر مقیم تھے تبلیغ و ہدایت میں مشغول تھے کہ
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا دہلی سے ایک عریضہ ملا جس میں
انہوں نے اجمیر آنے اور قدم بوسی کی خواہش ظاہر کی تھی۔ جس کے جواب
میں خواجہ صاحب نے لکھا ہم خود دہلی آئیں گے اور خواجہ صاحب خود دہلی
تشریف لے گئے۔ قطب الدین صاحب کی خانقاہ میں قیام کیا۔ سلطان شمس
الدین التمش کو جو اطلاع ملی تو خواجہ صاحب کی خدمت بابرکت میں حاضر
ہوکر گلہائے عقیدت پیش کئے۔ امراء، علماء، مشائخ، عوام و خواص سب ہی
خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور حضرت کے فیوض و برکات سے مالا مال ہوئے۔
بابا فرید الدین گنج شکر
بابا فرید الدین گنج شکر دہلی میں تھے۔ چلہ میں بیٹھے تھے۔ جب خواجہ
صاحب کو معلوم ہوا چلّے میں تشریف لے گئے اور حضرت خواجہ صاحب نے
بابا فرید کیلئے دعاء فرمائی۔ “خدایا ! ہمارے فرید کو قبول فرما اور
اکمل درویش کے مرتبہ پر پہنچا۔“ غیب سے نداء آئی۔ ہم نے فرید کو قبول
کیا۔ وہ وحید عصر ہوگا۔
پیر و مُرشد سے
شرف ملاقات
حضرت خواجہ صاحب کے پیرو مُرشد خواجہ عثمان ہارونی نے 611ھ میں دہلی
کو زینت بخشی۔ خواجہ صاحب اپنے پیرو مُرشد کی بارگاہ میں حاضر رہے
اور پیر کی صحبت میں رہ کر مُرشد کی تربیت و تلقین سے مستفید ہوئے۔
سلطان شمس الدین التمش کو طالب صادق اور مومن کامل پاکر حضرت خواجہ
غریب نواز نے اپنے مُرشد کے فرمان کے مطابق سلطان شمس الدین کی
استقامت و تربیت کیلئے ایک کتاب ترتیب دی جس کا نام “گنج اسرار“ رکھا۔
اسی زمانہ میں حضرت شیخ سعدہ مصنف “گلستان و بوستاں“ بھی دہلی تشریف
لائے اور دونوں بزرگوں سے ملاقات ہوئی۔ حضور خواجہ صاحب کچھ دنوں اور
دہلی میں قیام فرما کر اجمیر واپس آئے۔ اور رشد و ہدایت میں مشغول
ہوگئے۔ اور حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمۃ بھی دہلی سے تشریف
لے گئے۔
کسان کی سفارش
کیلئے دہلی جانا
حضرت خواجہ صاحب دوسری بار سلطان شمس الدین التمش کے عہد میں 631ھ
میں دہلی تشریف لے گئے۔ ایک کسان استمراری یا معیادی فرمان چاہتا تھا۔
کسان کے پیداوار کو حاکم شہر نے ضبط کر لیا تھا۔ شاہی فرمان سے کسان
کی مقصد برآری ہوتی تھی۔ کسان یہ چاہتا تھا کہ حضرت ایک سفارشی خط
قطب صاحب کو لکھ دیں۔ حضرت نے تھوڑی دیر سوچا پھر فرمایا اگرچہ سفارش
سے تیری مقصد برآری آسان ہے مگر اللہ تعالٰی نے مجھے تیرے کام کے لئے
متعین کیا ہے لٰہذا میرے ساتھ چل۔
حضرت جب روانہ ہونے لگے تو حضرت کے صاحبزادے حضرت خواجہ فخرالدین نے
بھی عرض کیا کہ موضع باندن کی معافی کیلئے سلطان شمس الدین سے میری
سفارش فرما دیں۔ حضرت دہلی پہنچ گئے۔ قطب صاحب نے کہا۔ حضرت کا بغیر
کسی اطلاع کے کیسے آنا ہوا ؟ بعد میں دریافت کرنے پر خواجہ صاحب نے
آمد کی وجہ بتائی۔ حضرت قطب صاحب خود سلطان التمش کے پاس گئے اور
کسان کا معاملہ کسان کے حق میں طے کراکے اور موضع باندن کی معافی کا
فرمان خواجہ فخرالدین کے حق میں لیکر حضرت خواجہ غریب نواز کی خدمت
میں حاضر ہوئے۔ دہلی میں قیام کے دوران سب ہی آپ سے ملنے آئے۔ مگر
نجم الدین صغرٰی نہیں آئے حالانکہ خراسان میں مل چکے تھے۔ خواجہ صاحب
خود ان کے مکان پر تشریف لے گئے۔ لیکن نجم الدین صغرٰی نے کوئی
التفات نہیں برتا حضرت خواجہ صاحب کو ناگوار ہوئی۔ حضرت نے ان سے
مخاطب ہوکر فرمایا کہ افسوس ہے کہ شیخ الاسلام کے نشے میں راہ و رسم
دیرینہ اور وضع داری قدیم کو یکبارگی ترک کردیا۔ شیخ نجم الدین صغرٰی
نے حضرت قطب الدین کی دہلی میں موجودگی پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار
کیا اور کہا کہ تمام مخلوق اس کی طرف رجوع ہے۔ میں برائے نام شیخ
الاسلام ہوں۔ خواجہ صاحب نے فرمایا۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے میں ان
کو (قطب الدین صاحب) اپنے ہمراہ لے جاؤنگا۔
خواجہ صاحب قطب صاحب کو لیکر اجمیر روانہ ہوئے۔ جب لوگوں کو معلوم
ہوا تو وہ گریاں و حیراں آپ کے پیچھے ہو لئے۔ سلطان التمس حاضر ہو کر
خواجہ صاحب سے استدعا کی کہ قطب صاحب کو دہلی میں چھوڑ دیا جائے۔
لوگوں کی حیرانی و پریشانی دیکھ کر قطب صاحب کو دہلی میں چھوڑ کر خود
اجمیر شریف روانہ ہوگئے۔ اور باقی دن اجمیر ہی میں رشد و ہدایت کے
کام میں گزار دئیے۔
وصال
633ھ شروع ہوتے ہی خواجہ صاحب کو علم ہوگیا کہ یہ آخری سال ہے۔ آپ نے
مُریدوں کو ضروری ہدایتیں اور وصیتیں فرمائیں۔ جو خلافت کے اہل تھے
انہیں خلافت سے نوازا اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کو اجمیر بلا
بھیجا۔ خواجہ صاحب کی جامع مسجد میں تشریف فرما تھے۔ مقرربین اور
احباب حاضر تھے۔ ملک الموت تقریر دل پذیر کا موضوع تھے کہ اچانک شیخ
علی سنجری سے مخاطب ہوئے اور خواجہ قطب الدین کی خلافت کا فرمان
لکھایا۔ قطب صاحب حاضر خدمت تھے۔ حضور غریب نواز نے اپنا کلاہ مبارک
قطب صاحب کے سر پر رکھا۔ اپنے ہاتھ سے عمامہ باندھا۔ خرقہء اقدس
پہنایا۔ عصائے مبارک ہاتھ میں دیا۔ مصلٰی کلام پاک، نعلین مبارک
مرحمت فرما کر ارشاد فرمایا۔ یہ نعمتیں میرے بزرگوں سے سلسلہ بہ
سلسلہ فقیر تک پہنچی ہیں۔ اب میرا آخری وقت آ پہنچا ہے یہ امانتیں
تمہارے سپرد کرتا ہوں۔ حق امانت حتی الامکان ادا کرنا تاکہ قیامت کے
دن مجھے اپنے بزرگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ پھر اور بہت سی
نصیحتیں فرما کر رخصت کیا۔“
233ھ میں5 / 6/ رجب کی درمیانی شب میں حسب معمول عشاء کی نماز کے بعد
آپ اپنے حُجرے میں داخل ہوئے اور اندر سے دروازہ بند کرلیا۔ رات بھر
دُرود اور ذکر کی آواز آتی رہی۔ صُبح ہونے سے پہلے یہ آواز بند ہوگئی۔
آخر مجبوراً دروازہ کھلا تو خدام نے دستکیں دیں اس پر بھی کوئی جواب
نہ آیا تو لوگوں کی پریشانی بڑھ گئی۔ سورج نکلنے پر دروازہ توڑ کر
اندر داخل ہوئے۔ دیکھا کہ آپ واصل بحق ہو چکے ہیں۔ اور آپ کی نورانی
پیشانی پر سبز اور روشن حروف میں لکھا ہوا ہے۔ ھذا حبیب اللہ مات فی
حب اللہ (یعنی یہ اللہ کے حبیب تھے۔ اللہ کی محبت میں وفات پائی۔)
انتقال کی خبر بجلی کی طرح پورے شہر میں دوڑ گئی اور جنازہ پر ہزاروں
کی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔ آپ کے بڑے صاحبزادے خواجہ فخرالدین نے
نماز جنازہ پڑھائی جس حُجرہ میں آپ کا انتقال ہوا وہیں آپ کو دفن کیا
گیا۔ جب ہی سے آپ کا آستانہ ہندوستان کا روحانی مرکز ہے۔ آپ کا عرس
مبارک ہر سال یکم رجب سے 6، رجب تک بڑے اہتمام سے ہوتا ہے۔
خواجہ صاحب کے ملفوظات عالیہ
(1)عارف محبت میں کامل اس وقت ہوتا ہے جب درمیان سے گفتگو اٹھ جائے۔ ایسا ہو
جائے یا دُرست رہے یا خود رہے۔
(2) عارف کا توکل حق کے ساتھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ وہ عالم سکر میں
متحیر ہوتا ہے۔
(3) عارف وہ ہے جو راہِ عشق میں کسی کو نہ دیکھے۔
(4) عارف آفتاب صفت ہوتے ہیں۔ ان سے تمام عالم منور ہوتا ہے۔
(5) عارف کا کمال یہ ہے کہ اپنے کو راہِ خدا میں جلا دے۔
(6) راہ سلوک :۔ اس راہ میں بہت سے مرد عاجز اور عاجز مرد ہو گئے۔
(7) راہ محبت میں عاشق وہ ہے جو دونوں جہاں سے دل اٹھا لے۔
(8) جب تک مُرشد کی تربیت حاصل نہ ہوگی، منزل پر نہ پہنچے گا۔
(9) عشق کی راہ ایسی ہے کہ جو اس راہ میں چلتا ہے اس کا نام و نشان
نہیں ملتا۔
(10) عاشق :۔ اللہ تعالٰی کے ایسے عاشق بھی ہوتے ہیں جنہیں اس کی
روشنی نے خاموش کر رکھا ہے انہیں عالم موجودات کی کسی چیز کی خبر
نہیں ہوتی۔
(11) صُحبت :۔ نیکیوں کی صُحبت نیک کام سے بہتر ہے اور بُروں کی
صحبت بدکام سے بدتر ہے۔
(12) یقین :۔ ایک نور ہے جس سے انسان منور ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں
محبان و متقیان میں شامل ہو جاتا ہے۔
(13) گناہ :۔ تمہیں اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا مسلمان بھائی
کو خوار و ذلیل کرنا۔
(14) دل :۔ وہ ہے جو اپنے حال سے خالی ہو اور مشاہدہء دوست باقی ہو۔
(15) نسبت :۔ بندہ کو حق تعالٰی سے اس قدر نسبت پیدا کرنی چاہئیے
کہ جو کچھ وہ چاہے قبول کرے اور اگر اس قدر نہ ہو تو اس کو درویش
نہیں کہنا چاہئیے۔
(16) کفر :۔ کافر سو برس تک لاالہ الااللہ کہنے سے مسلمان نہیں۔
لیکن ایک مرتبہ محمد رسول اللہ کہنے سے صد سالہ کفر دور ہو جاتا ہے۔
(ماخوذ از معین الہند)